اپ ڈیٹ: اس حادثے کی حتمی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 6 سے 7 اور زخمیوں کی تعداد 40 سے 50 سے زائد بتائی گئی (دی نیوز: 7 جاں بحق، 47 سے زائد زخمی؛ دی ہندو: 6 جاں بحق، 40 زخمی)۔ یہ رپورٹ ابتدائی اطلاعات (5 جاں بحق، 36 سے زائد زخمی) پر مبنی تھی۔
منگل کی صبح سویرے پاکستان کے ریلوے نظام کو ایک اور المناک حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس ملتان کے قریب شیر شاہ کے مقام پر پٹری سے اتر گئی۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ ٹرین کی تمام 14 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ حتمی اطلاعات کے مطابق 6 سے 7 مسافر جاں بحق اور 40 سے 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ملتان کے نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
یہ حادثہ صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا، ایسے وقت جب زیادہ تر مسافر نیند میں تھے۔ اچانک جھٹکے اور بوگیوں کے الٹنے سے ٹرین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مسافروں نے بتایا کہ انہیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے — ایک لمحے ٹرین پوری رفتار سے چل رہی تھی اور اگلے ہی لمحے بوگیاں ایک دوسرے پر چڑھتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
رحمان بابا ایکسپریس کراچی سے پشاور کے طویل سفر پر تھی اور اس میں سینکڑوں مسافر سوار تھے — مختلف رپورٹس کے مطابق مسافروں کی تعداد 500 سے 1000 کے درمیان تھی۔ ٹرین ملتان کے شیر شاہ اسٹیشن کے علاقے سے گزر رہی تھی جب یہ حادثہ پیش آیا۔
ٹرین کے ڈرائیور رضوان عباس نے حادثے کے بارے میں بتایا کہ ٹرین تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی اور سگنل کلیئر تھا۔ ان کے بقول، شیر شاہ اسٹیشن کے علاقے سے گزرتے ہوئے اچانک انہیں ایک زوردار دھکا محسوس ہوا۔ انہوں نے فوراً بریک لگائی اور ٹرین کو روک دیا، لیکن جب وہ انجن سے باہر نکلے تو دیکھا کہ مسافروں والی بوگیاں پٹری سے اتر چکی تھیں۔
حادثے کی اصل وجہ ابھی تک سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی۔ ریلوے حکام نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے، اور فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔
ریسکیو آپریشن: 13 بوگیاں کلیئر، ایک میں کام جاری
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، ایمرجنسی عملہ اور پیرا میڈکس جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ریسکیو 1122 کو صبح 5 بج کر 21 منٹ پر ہنگامی کال موصول ہوئی، جس کے بعد 11 ایمبولینسیں، 3 فائر بریگیڈ گاڑیاں اور 2 ریسکیو گاڑیاں روانہ کی گئیں۔ تقریباً 70 ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، اور پاک فوج کا امدادی دستہ بھی ریسکیو آپریشن میں شامل ہوا۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے بعد تمام 14 بوگیوں سے مسافروں کو نکالنے کا کام شروع کیا گیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق 13 بوگیاں کلیئر کر لی گئی ہیں، جبکہ ایک بوگی میں امدادی کام جاری تھا۔
زخمیوں کو نشتر ہسپتال ملتان منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق 36 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 2 افراد کو جائے حادثہ پر ہی طبی امداد دی گئی۔
حادثے کے بعد اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریکس پر ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، جس سے اس روٹ پر سفر کرنے والے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔ ریلوے حکام نے ٹرینوں کو ملتان کے بجائے لودھراں سے خانیوال اور جہانیاں کے راستے بھیجنا شروع کیا۔ پاکستان ریلویز نے متاثرہ مسافروں کے لیے متبادل انتظامات کیے اور شیر شاہ ریلوے اسٹیشن سے 500 سے زیادہ مسافروں کو لے کر ایک متبادل ٹرین روانہ کی گئی۔ جو مسافر سڑک کے راستے سفر مکمل کرنا چاہتے تھے، ان کے لیے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بسوں کا انتظام بھی کیا گیا۔
ہلاکتوں کی تعداد پر مختلف اطلاعات — اصل اعداد کیا ہیں؟
حادثے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئیں۔ ابتدائی طور پر 4 ہلاکتوں کی اطلاع ملی، بعد میں ایک قومی ٹی وی چینل نے اپنی دوپہر کی اپ ڈیٹ میں تعداد 5 بتائی، جبکہ ایک اور ذریعے نے 6 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا۔ ریسکیو 1122 نے مجموعی طور پر 53 متاثرین کی اطلاع دی، جن میں 4 جاں بحق اور 49 زخمی شامل تھے — زخمیوں میں سے 22 کو معمولی چوٹیں آئیں اور 27 کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی اس حوالے سے محتاط بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے 4 اموات کی اطلاع دی ہے اور وہ 5 اموات کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ اس لیے قارئین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ حتمی اعداد ابھی بدل سکتے ہیں۔ اس رپورٹ میں ہم تازہ ترین میڈیا اپ ڈیٹ (5 جاں بحق، 36 سے زائد زخمی) کو بنیاد بنا رہے ہیں، ساتھ ہی یہ واضح کر رہے ہیں کہ مختلف سرکاری و غیر سرکاری ذرائع میں اعداد میں فرق موجود ہے۔
ایک مسافر کا دعویٰ — جس کی تصدیق نہیں ہو سکی
حادثے کے بعد ایک مسافر نے صحافیوں کو بتایا کہ روہڑی کے قریب بوگی نمبر 9 کے نٹ بولٹ کی مرمت کی گئی تھی۔ یہ دعویٰ ابھی تک آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہو سکا، اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس مرمت کا حادثے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ ایسے دعووں کو تحقیقات سے پہلے حتمی حقیقت نہ سمجھا جائے۔ ریلوے کی انکوائری میں ٹریک کی حالت، بوگیوں کی دیکھ بھال، رفتار اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ تب ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ حادثہ انسانی غلطی، تکنیکی خرابی یا ٹریک کی خستہ حالی کی وجہ سے پیش آیا۔
حکومتی ردعمل: صدر اور وزیراعظم کا اظہار افسوس
حادثے پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ریسکیو آپریشن تیز کیا جائے۔ صدر مملکت نے بھی متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وفاقی وزیر ریلوے نے انکوائری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز واقعے کی تحقیقات کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جاں بحق اور زخمی مسافروں کو ریلوے انشورنس پالیسی کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا، اور حادثے کی جگہ کا خود جائزہ لینے کے لیے وہ موقع پر بھی پہنچے۔ اس کے علاوہ پاکستان ریلویز نے بڑے اسٹیشنوں پر 24 گھنٹے معلوماتی اور معاونت کے ڈیسک قائم کر دیے ہیں، جہاں مسافر اور ان کے اہل خانہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈویژنل کمرشل افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ مسافروں کے لیے متبادل ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے اور جہاں ضرورت ہو، ٹکٹوں کی رقم واپس کی جائے۔
پاکستان میں ٹرین حادثات کیوں بار بار ہوتے ہیں؟
ملتان کا یہ حادثہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ پاکستان میں ٹرین حادثات افسوسناک حد تک عام ہو چکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں کئی دہائیوں سے ریلوے کے نظام میں سرمایہ کاری کی کمی، پرانی پٹریاں، فرسودہ سگنل نظام اور دیکھ بھال کا ناقص انتظام شامل ہیں۔
اگست 2023 میں سندھ کے نوابشاہ کے قریب ہزارہ ایکسپریس کی 10 بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں، جس میں کم از کم 30 افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس حادثے کے بعد بھی ریلوے کی حفاظت کے نظام کو بہتر بنانے کے وعدے کیے گئے تھے، لیکن آج پھر ایک بڑا حادثہ سامنے آ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز کو تین شعبوں میں فوری بہتری کی ضرورت ہے: پہلا، پٹریوں اور پلوں کی باقاعدہ جانچ اور مرمت؛ دوسرا، بوگیوں اور انجنوں کی دیکھ بھال کے سخت معیار؛ اور تیسرا، حادثات کی شفاف اور بروقت تحقیقات تاکہ ہر حادثے سے سبق سیکھا جا سکے۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، ایسے حادثات کا خطرہ برقرار رہے گا۔
متاثرہ مسافروں کے لیے کیا انتظامات ہیں؟
پاکستان ریلویز کے مطابق حادثے میں متاثرہ مسافروں کے لیے درج ذیل سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں:
- زخمیوں کا نشتر ہسپتال ملتان میں مفت علاج جاری ہے۔
- بڑے اسٹیشنوں پر 24 گھنٹے معلوماتی ڈیسک قائم ہیں، جہاں اہل خانہ اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں۔
- متبادل ٹرین اور بسوں کے ذریعے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچایا جا رہا ہے۔
- جن مسافروں کا سفر مکمل نہیں ہو سکا، انہیں ٹکٹ کی رقم واپس کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ کے کسی عزیز کا اس ٹرین میں سفر تھا تو قریبی ریلوے اسٹیشن کے معلوماتی ڈیسک سے رابطہ کریں یا ریلوے کی ہیلپ لائن سے معلومات حاصل کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
اب سب کی نظریں انکوائری رپورٹ پر ہیں۔ فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کی تحقیقات سے یہ معلوم ہوگا کہ حادثہ کیوں پیش آیا اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگر تحقیقات میں دیکھ بھال میں غفلت یا ٹریک کی خرابی سامنے آتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ شیر شاہ کے مقام پر ٹریک کی بحالی کا کام بھی جاری ہے تاکہ کراچی-پشاور روٹ پر ٹرینوں کی آمدورفت جلد از جلد بحال ہو سکے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریک بحال ہوتے ہی معمول کی ٹرین سروس دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔
نتیجہ
ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کا حادثہ ایک بار پھر پاکستان کے ریلوے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر گیا ہے۔ متعدد خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، درجنوں زخمی ہسپتالوں میں ہیں، اور سینکڑوں مسافر ایک خوفناک صبح کا سامنا کر کے گھر لوٹے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس حادثے کی تحقیقات واقعی شفاف ہوں گی اور کیا اس سے کوئی عملی سبق سیکھا جائے گا؟ پاکستان کے لاکھوں ریلوے مسافر اس جواب کے منتظر ہیں۔ ہم اس واقعے کی مزید پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی انکوائری یا حکام کی جانب سے نئی معلومات سامنے آئیں گی، آپ کو آگاہ کریں گے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے ہماری دعائیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے۔ آمین۔

0 comments:
Post a Comment